Saturday , 20 October 2018
تازہ شمارے
You are here: Home » تاریخ » The Real Crisis 2
The Real Crisis 2

The Real Crisis 2

حقیقی بحران…

بیت المقدس بخت نصر کے ہاتھوں برباد ہوا۔ایرانی بابل کا قدیم تمدن تاراج کرگئے۔ رومیوں نے نکلتے ہی کارتھیج کو آگ لگاکر راکھ کے ڈھیر میں بدل ڈالا۔ سکندر ایران پر حملہ آور ہوا تو سارے نقوش مٹاڈالے۔ تاتاریوں نے متمدن سفر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بغداد کے آثار تہذیب کو دجلہ میں ڈبودیا۔ روحانی یادگار یں فنا ہوگئی۔Computer Hope
غور کیا جائے ملک ملکوں کے ہاتھوں اور تہذیبوں نے مقابل تمدن کو نشانِ عبرت بنا ڈالا۔ اقوام لوٹی گئی برباد ہوئی،علم بدلا، اندھیروں سے آزادی نے غلامی کا روپ دھارا،موجودہ مغربی تہذیب ابتدائی آغاز سے ہی دو عالمی جنگوں کے سبب پورے کے پورے عہد کو مجروح کرگئے، نام اور طریقے بدلے ، مقاصد اب بھی وہی ہیں۔ کبھی سرد جنگ تو کبھی گرم محاذ۔Computer Hope
یہ تاریخ کا ایسا باب ہے جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، محکومی اور غلامی کے خوش نما نام رکھے گئے۔کمیونزم، کیپٹل ازم ، قسم در قسم کے ازم ڈھالے گئے، انسانیت کی تکریم نہ ہونی تھی نہ ہوئی۔
اقوام و ملل کے پٹے پڑے گوشوں سے حالیہ ، وار آن ٹیرر تک یہی دستور رہا اور ابد تک یہی رہے گا، لیکن تاریخ کا یہ حیرت انگیز باب ایک دوسرا رخ بھی رکھتا ہے۔ارض و سما نے وہ منظر بھی دیکھا کہ آقا اور غلام ایک ساتھ بیٹھے، حاکم و محکوم کا فرق مٹ گیا۔Computer Hope
ایران ، بابل، یونان، مصر،شام، فلسطین،افریقا ٹوٹے پھر بنے، ان کی سرحدیں سکڑتی،پھیلتی رہیں۔
یہی اقوام اسلام کی زیرنگین آئی اور مسلمان فاتح بنے تو روحانی یادگاریں قائم ہوئیں، مٹے علمی دفینے زندہ کئے گئے، بکھرے کتب خانے پھر سے جمع ہوئے یہ اسلام ہی تھا جو جہاں گیا ، تمدن، آزادی  ساتھ لے گیا۔
سوسالوں میں عربوں نے صحراؤں سے نکل کر روم ، فارس جیسی عظیم سلطنتوں کو انسانیت کا درس دیا۔تاتاریوں کو جس نے علم کا محافظ ٹھہرایا، بربر جیسی قوم اسپین میں تہذیب کے نمونے قائم کرتی ہے جس سے آنے والے مسلم عہد کے یورپ کے تاریک دور کو علم وفن کی روشنی سے بدل دینا تھا۔
آج مغربی تہذیب پچھلی اقوام کے نقش قدم پر ہے جس نے ان کا عبرت کا نمونہ بناڈالا تھا، ہم جنس پرستوں کو چرچ تحفظ دے چکا ہے، وہاں مذہب ریاست سے الگ ہوکر فرد کی زندگی سے بھی نکل چکی، آج کے انسان پر مادیت سوار ہوچکی ہے، اخلاقی اقتدار فنا ہوچکے۔وحی کی رہنمائی سے محروم اقوام نے قانون کا اختیار،سوسائٹیوں کو دیا جس نے انہیں ایسا مادرپدر آزاد ماحول دیا جو ان کی تمام ترقیوں پر حاوی ہوگیا ہے۔ فضا ،زمین،سمندروں کی تسخیر کرنے والے خود کو نہ سمجھ سکے۔مغرب میں جاری یہ صورت حال آنے والی دہائیوں میں دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرے گی۔
اس کا علاج آج بھی اور صرف اسلام ہی کے پاس ہے، ضرورت صرف ایسے مخلص افراد اور تنظیموں کی ہے جو بے غرض ہوکر کام کرسکے،مثال کے لئے حضرت محمد ﷺ کو مدنظر رکھنا ہوگا ، جب مدینہ ایک ریاست کا درجہبھی حاصل نہ کرپائی تھی کہ حضورﷺنے قیصرِ روم کو وہ تاریخی خط لکھا تھا جس میں واضح طور پر ہدایت تھی کہ اسلام لے آؤ سلامتی پاؤ گئے، اس عزم اور حوصلے سے ہر مسلمان کو عملی لحاظ سے خود کو ثابت کرنا ہوگا۔Computer Hopeاس کالم کی دستاویزی فلم دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

About admin

Scroll To Top