Monday , 18 June 2018
تازہ شمارے
You are here: Home » تاریخ » تہذیبوں کی جنگ Clash of Civilizations
تہذیبوں کی جنگ  Clash of Civilizations

تہذیبوں کی جنگ Clash of Civilizations

تہذیبوں کی جنگ

16ویں صدی عیسوی دنیائے کلیسا میں طویل کش مکش کے بعد پاپائیت کی روایتی اجارہ داری ختم ہوگئی اور ترقی کی راہ میں مذہب رکاوٹ قرار پاکر یورپ میں مذہب اور علم کی راہیں جدا ہوگئیں۔جس نے مسلم ممالک میں اس بحث کو جنم دیا۔

برصغیر میں اکبر اور مجدد الف ثانی کی سرد جنگ ہو یا دارا شکوہ اوررنگزیب ، دوبھائیوں کی نہیں اسی فکر اور نظریوں کی جنگ تھی ، جس میں بالآخر حق کی فتح ہوئی اور اکبر سے جہانگیر پھر شاہ جہاں اور پھر اورنگزیب تک آتے آتے بہار آگئی اور یہ بحث ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کتابوں تک محدود ہوگئی اور ایسا ہوتا بھیکیوں نا، جب صحرائے عرب میں چھ صدیوں بعد آسمان کا پہلی بار زمین سے رابطہ ہوتا ہے تو صحرا میں کائنات کے سب سے بڑے محسن حضرت محمد ؐ کی زبان مبارک سے جو پہلا لفظ نکلتا ہے وہ “اقرا” ہے، جو حیرت انگیز طور سے اسم (اللہ) سے جڑا ہے۔
قرآن نے مظاہرقدرت میں سورج، چاند ، ستاروں اور پہاڑوں کا ذکر کیا جو عام فہم ہے۔

ایٹمی ذرات کی باریکیوں سے بحث نہ کی اور نہ ہی اس کا مطالبہ سب کے لئے

غزالی

فارابی،

ابن سینا،

شاہ ولی اللہ،

ہاکنگ

یا

آئن اسٹائن کا ہے۔
بنیادی طور سے عمل کے لئے شرط صرف علم نہیں بلکہ ایمان ہے ۔ یہ نکتہ سمجھ میں آجائے تو بہت سے مسائل خود سے حل ہوجاتے ہیں۔
عرب کے بدو ہو ، افریقہ کے بربر جس نے اسپین کو تہذیب و تمدن کا درس دیا، یا وحشی تاتار ایمان داخل ہوا تو انہوں نے دنیا ہی بدل ڈالی۔
یورپ کے مذہب سے فرار اور مشرق کے مذہب سے لگاؤ کو ان نکات سے سمجھنے کی کوشش کیجئے۔
شاید یہ بات آسانی سے ہضم نہ ہو کہ دو عالمی جنگوں کے پیچھے بھی مذہب سے فرار سب سے بڑی اور اہم وجہ ہے اور حالیہ وارآن ٹیرر کی کڑیاں بھی اسی سے جاملتی ہیں ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ شاہ عبداللہ، طیب اردوان یا کوئی اور اسلامی تنظیم ان نکات کی طرف مغرب کو متوجہ کرتے۔ مگر افسوس کوئی مسلمان ملک اس اخلاقی پوزیشن میں نہیں جو مغرب کو اس طرف توجہ دلاسکے۔

اس کالم کی دستاویزی فلم دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں .

 

آواز کے ساتھ اس کالم کو سنیں:

About admin

  • Tariq Ur Rehman

    Good Start
    by VOI . we expect some more creative work..

Scroll To Top